دولت کا پودا

خصوصی فیچرز

جس گھر میں یہ پودا ہو گا دولت اس کی طرف کھنچی چلی آئیگی اس پودے کا نام کیا ہے اور یہ کہاں پایا جاتا ہے،جان کر آپ ابھی خریدنے چلے جائینگے‎ پیسے درختوں پر نہیں اگتے،یہ مشہور مقولہ پاکستان بھر میں بولا جاتا ہے لیکن جنوبی افریقہ میں ایک ایسا پودا بھی ہے کہ جس پر پیسے تو نہیں اگتے

لیکن اس پودے کی جہ سے گھر میں پیسے کی ریل پیل ضرور ہوتی ہے ۔ جنوبی افریقہ کی مقامی زبان میں اس پودے کو جیڈ یعنی پیسے کا درخت کہا جاتا ہے، جبکہ اس کا سائنسی نام کراسولا اوواٹا ہے۔عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اس پودے کے بارے میں عام پائے جانے والے نظریے کے پیچھے ایک دلچسپ لوک داستان ہے۔کہتے ہیں کہ قدیم افریقہ میں ایک کسان کھیتوں میں محنت مزدوری کے بعد واپس آ رہا تھا۔ وہ اپنے خیالات میں غرق تھا اور سوچتا جا رہا تھا کہ کب اس کے حالات بدلیں گے۔ اسی بے دھیانی میں اس کا پاؤں کسی چیز سے ٹکرایا اور وہ زمین پر گر گیا۔ اس نے دیکھا کہ یہ ایک جھاڑی نما پودا تھا

جس سے الجھ کر وہ گرا تھا۔ کسان نے اس پودے کو غور سے دیکھا تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی۔ اس کے پتوں کی شکل دیکھ کر اسے بے اختیار دولت کی تصویر اپنے ذہن میں لہراتی نظر آئی اور یہ پودا دیکھنے میں بہت خوبصورت بھی تھا۔ اس کسان نے اسے کھودا اور لا کر اپنے گھر میں لگا دیا۔کہنے والے کہتے ہیں کہ جیسے جیسے یہ پودا بڑھتا گیا ویسے ویسے کسان کے دن پھرتے گئے۔ ایک وقت آیا کہ غریب کسان اتنا مالدار ہو گیا کہ ہر کوئی اپنی حاجت پوری کرنے کے لئے اس کے پاس آنے لگا۔ بس اسی وقت سے لوگوں کو معلوم ہو گیا کہ یہ جیڈپودے کا کمال تھا جس نے مفلس کسان کو مالدار بنا دیا۔

آج بھی جنوبی افریقہ میں اس پودے کے متعلق یہ نظریہ عام پایا جاتا ہے لوگ آج بھی جید کے پودے کو اپنے گھر میں لگاتے ہیں تاکہ ان کے دن پھر جائیں۔‎ جس گھر میں یہ پودا ہو گا دولت اس کی طرف کھنچی چلی آئیگی اس پودے کا نام کیا ہے اور یہ کہاں پایا جاتا ہے،جان کر آپ ابھی خریدنے چلے جائینگے‎ پیسے درختوں پر نہیں اگتے،یہ مشہور مقولہ پاکستان بھر میں بولا جاتا ہے لیکن جنوبی افریقہ میں ایک ایسا پودا بھی ہے کہ جس پر پیسے تو نہیں اگتے لیکن اس پودے کی جہ سے گھر میں پیسے کی ریل پیل ضرور ہوتی ہے ۔ جنوبی افریقہ کی مقامی زبان میں اس پودے کو جیڈ یعنی پیسے کا درخت کہا جاتا ہے،

جبکہ اس کا سائنسی نام کراسولا اوواٹا ہے۔عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اس پودے کے بارے میں عام پائے جانے والے نظریے کے پیچھے ایک دلچسپ لوک داستان ہے۔کہتے ہیں کہ قدیم افریقہ میں ایک کسان کھیتوں میں محنت مزدوری کے بعد واپس آ رہا تھا۔ وہ اپنے خیالات میں غرق تھا اور سوچتا جا رہا تھا کہ کب اس کے حالات بدلیں گے۔ اسی بے دھیانی میں اس کا پاؤں کسی چیز سے ٹکرایا اور وہ زمین پر گر گیا۔ اس نے دیکھا کہ یہ ایک جھاڑی نما پودا تھا جس سے الجھ کر وہ گرا تھا۔ کسان نے اس پودے کو غور سے دیکھا تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی۔ اس کے پتوں کی شکل دیکھ کر اسے بے اختیار دولت کی تصویر اپنے ذہن میں لہراتی نظر آئی اور یہ پودا دیکھنے میں بہت خوبصورت بھی تھا۔

اس کسان نے اسے کھوداور لا کر اپنے گھر میں لگا دیا۔کہنے والے کہتے ہیں کہ جیسے جیسے یہ پودا بڑھتا گیا ویسے ویسے کسان کے دن پھرتے گئے۔ ایک وقت آیا کہ غریب کسان اتنا مالدار ہو گیا کہ ہر کوئی اپنی حاجت پوری کرنے کے لئے اس کے پاس آنے لگا۔ بس اسی وقت سے لوگوں کو معلوم ہو گیا کہ یہ جیڈپودے کا کمال تھا جس نے مفلس کسان کو مالدار بنا دیا۔ آج بھی جنوبی افریقہ میں اس پودے کے متعلق یہ نظریہ عام پایا جاتا ہے لوگ آج بھی جید کے پودے کو اپنے گھر میں لگاتے ہیں تاکہ ان کے دن پھر جائیں۔‎ جس گھر میں یہ پودا ہو گا دولت اس کی طرف کھنچی چلی آئیگی اس پودے کا نام کیا ہے اور یہ کہاں پایا جاتا ہے،

جان کر آپ ابھی خریدنے چلے جائینگے‎ پیسے درختوں پر نہیں اگتے،یہ مشہور مقولہ پاکستان بھر میں بولا جاتا ہے لیکن جنوبی افریقہ میں ایک ایسا پودا بھی ہے کہ جس پر پیسے تو نہیں اگتے لیکن اس پودے کی جہ سے گھر میں پیسے کی ریل پیل ضرور ہوتی ہے ۔ جنوبی افریقہ کی مقامی زبان میں اس پودے کو جیڈ یعنی پیسے کا درخت کہا جاتا ہے، جبکہ اس کا سائنسی نام کراسولا اوواٹا ہے۔عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اس پودے کے بارے میں عام پائے جانے والے نظریے کے پیچھے ایک دلچسپ لوک داستان ہے۔کہتے ہیں کہ قدیم افریقہ میں ایک کسان کھیتوں میں محنت مزدوری کے بعد واپس آ رہا تھا۔ وہ اپنے خیالات میں غرق تھا اور سوچتا جا رہا تھا کہ کب اس کے حالات بدلیں گے۔ اسی بے دھیانی میں اس کا پاؤں کسی چیز سے ٹکرایا اور وہ زمین پر گر گیا۔ اس نے دیکھا کہ یہ ایک جھاڑی نما پودا تھا جس سے الجھ کر وہ گرا تھا۔ کسان نے اس پودے کو غور سے دیکھا تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی۔ اس کے پتوں کی شکل دیکھ کر اسے بے اختیار دولت کی تصویر اپنے ذہن میں لہراتی نظر آئی اور یہ پودا دیکھنے میں بہت خوبصورت بھی تھا۔ اس کسان نے اسے کھودا اور لا کر اپنے گھر میں لگا دیا۔کہنے والے کہتے ہیں کہ جیسے جیسے یہ پودا بڑھتا گیا ویسے ویسے کسان کے دن پھرتے گئے۔ ایک وقت آیا کہ غریب کسان اتنا مالدار ہو گیا کہ ہر کوئی اپنی حاجت پوری کرنے کے لئے اس کے پاس آنے لگا۔ بس اسی وقت سے لوگوں کو معلوم ہو گیا کہ یہ جیڈپودے کا کمال تھا جس نے مفلس کسان کو مالدار بنا دیا۔ آج بھی جنوبی افریقہ میں اس پودے کے متعلق یہ نظریہ عام پایا جاتا ہے لوگ آج بھی جید کے پودے کو اپنے گھر میں لگاتے ہیں تاکہ ان کے دن پھر جائیں۔‎

کلک ٹو کمنٹ ‎

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

تازہ ترین‎

اوپر